Thursday, 3 March 2022

دھوپ میں ساتھ مرے وہ بھی جلا کرتا تھا

 دھوپ میں ساتھ مِرے وہ بھی جلا کرتا تھا

وہ جو اک سایہ مرے ساتھ چلا کرتا تھا

اک دِیا تھا کہ جو جلتے ہی بجھا کرتا تھا

اور دُھواں سا مرے سینے سے اُٹھا کرتا تھا

درد بن کے مرے پہلو میں رہا کرتا تھا

جو مرے واسطے سجدے بھی کِیا کرتا تھا

اِک تِرا غم کہ مرے پاس نہیں رہتا تھا

خون بن کے مِری آنکھوں سے بہا کرتا تھا

مِری آنکھوں میں کوئی خواب سماتا کیسے

مِری آنکھوں میں تِرا ہجر رہا کرتا تھا

کھو گیا چھوڑ کے مجھ کو وہ خلاؤں میں کہیں

مجھ سے ملنے کی جو دن رات دعا کرتا تھا

کس لیے چھوڑ گئے ہیں مِرے اپنے مجھ کو

میں تو ہر حال میں یاروں سے وفا کرتا تھا

مُردنی سی مِری آنکھوں میں امڈ آئی ہے

میں تو ہر وار زمانے کا سہا کرتا تھا

وقت نے کاٹ دئیے پر تو گِرا منہ کے بل

مجھ کو دیکھو میں ہواؤں میں اُڑا کرتا تھا

آج یہ وقت ہے شاہد کہ میں خود ہوں مجبور

میں تو لوگوں کے بھی زخموں کو سِیا کرتا تھا


شاہد مرزا 

No comments:

Post a Comment