چھٹی حس
کئی دنوں سے
عجیب لہجوں کی زد میں ہوں میں
کہیں پہ جیسے کئی رواجوں کی دشمنی میں
کسی کے دل میں پلی محبت پہ حرف آئے
اداس آنکھوں کا ضبط ٹوٹے اور بددلی سے
اپنی قسمت پہ کوئی جیسے ہے مسکرائے
دعا سی لڑکی! دعا کرو تم
میں بددعا کی ہوں زد میں شاید
میری طبیعت کرخت لہجوں کے شر سے نکلے
دعائیں میری اگر کہیں پر بھٹک رہی ہیں
جو تم نے مانگی خدا وہ ساری تمہاری سن لے
میرے حواسوں پہ آگہی کا جو ڈر ہے ٹھہرا
وہ میرے حق میں قبول نہ ہو خدارا اترے
منافقت میں پلے رویوں سے خیر مولا
نہیں جو میرا وہ میرے دل سے خدارا اترے
کامران سعید خان
No comments:
Post a Comment