Thursday, 3 March 2022

جو کر رہے تھے زمانے سے گمرہی کا سفر

 جو کر رہے تھے زمانے سے گمرہی کا سفر

انہیں کے نام کیا حق نے بندگی کا سفر

جہاں پہ لوگ اندھیرے سجائے بیٹھے تھے

وہاں پہ آج بھی جاری ہے روشنی کا سفر

ابھی ہے وقت سنبھل جاؤ اے جہاں والو

کہیں تمام نہ ہو جائے آدمی کا سفر

میں اپنی ذات کا حصہ جسے سمجھتا ہوں

مِرے خدا کی ہے بخشش وہ آگہی کا سفر

اسی کا ساتھ خدایا مجھے میسر ہو

محبتوں کا رفاقت کا زندگی کا سفر

یہ ایک کاہکشاں ہی نہیں مری منزل

کہ اس کے بعد بھی باقی ہے روشنی کا سفر


انور کیفی

No comments:

Post a Comment