زندگی شام کو دفتر سے نکل آتی ہے
اور اداسی مِرے اندر سے نکل آتی ہے
چادریں جتنی بھی تبدیل کروں تیرے بعد
تیری خوشبو مِرے بستر سے نکل آتی ہے
میں ہوں وہ آگ کہ جس آگ کو چکھنے کے لیے
جل پری چل کے سمندر سے نکل آتی ہے
جس قدر آپ بتاتے ہیں مجھے صحرا میں
اتنی ویرانی مِرے گھر سے نکل آتی ہے
کچھ چراغوں کی محبت بھری یاد آتے ہی
لہلہا کر مِری لو سر سے نکل آتی ہے
حضرتِ حُر نے نکل کر یہ دکھایا ہم کو
روشنی رات کے لشکر سے نکل آتی ہے
شام کے وقت سمندر میں لہو گھلتے ہی
تیری صورت مِرے ساغر سے نکل آتی ہے
کہاں دبتی ہے دبانے سے محبت ارمان
یہ وہ کونپل ہے جو پتھر سے نکل آتی ہے
علی ارمان
No comments:
Post a Comment