Thursday, 3 March 2022

مٹتی ہوئی تہذیب سے نفرت نہ کیا کر

 مٹتی ہوئی تہذیب سے نفرت نہ کیا کر

چوپال پہ بوڑھوں کی کہانی بھی سنا کر

معلوم ہوا ہے یہ پرندوں کی زبانی

تھم جائے گا طوفان درختوں کو گرا کر

پیتل کے کٹورے بھی نہیں اپنے گھروں میں

خیرات میں چاندی کا تقاضا نہ کیا کر

ممکن ہے گریبانوں میں خنجر بھی چھپے ہوں

تُو شہرِ اماں میں بھی نہ بے خوف پھرا کر

کیا خوب لڑکپن تھا کہ ساون کے دنوں میں

تسکین ملا کرتی تھی بارش میں نہا کر

مانگے ہوئے سورج سے تو بہتر ہے اندھیرا

تُو میرے لیے اپنے خدا سے نہ دعا کر

ترتیب تِرے حُسن کی مٹ جائے گی اک دن

دیوانے کی باتوں کو نہ بے ربط کہا کر

آتی ہیں بہت رات کو رونے کی صدائیں

ہمسائے کا احوال کبھی پوچھ لیا کر

وہ قحطِ ضیا ہے کہ مِرے شہر کے کچھ لوگ

جگنو کو لیے پھرتے ہیں مٹھی میں دبا کر


رفیق سندیلوی

No comments:

Post a Comment