پیار کا آج چلن دوستو دشوار ہے کیوں
آج انسان خود انسان سے بیزار ہے کیوں
آج کے دور نے یہ کون سی کروٹ لی ہے
آج کے دور میں معصوم گنہگار ہے کیوں
بے گناہوں کا لہو شہر میں ارزاں ہی سہی
آسماں پر بھی وہی رنگ نمودار ہے کیوں
میں تو مر جانے کو تیار ہوں دشمن کے لیے
میرا دشمن بھی مگر مرنے کو تیار ہے کیوں
کیا ترے کوچہ ہی کی دین طرحداری ہے
تیرے کوچہ سے جو گزرا وہ طرحدار ہے کیوں
کیوں خلوص اور صداقت سے نہیں کچھ حاصل
مکر ہی مکر زمانے کو سزاوار ہے کیوں
تیرے مے خانے کے فیضان و کرم سب تسلیم
تیرے مے خانے کا ہر جام نگوں سار ہے کیوں
کل تک اس شوخ کی یادوں پہ تھا جینے کا مدار
آج اس شوخ کی ہر یاد گراں بار ہے کیوں
گوشۂ دل میں بھی بت خانے ہوا کرتے ہیں
قادر اس بات سے اب آپ کو انکار ہے کیوں
قادر صدیقی
No comments:
Post a Comment