Friday, 11 February 2022

پیار کا آج چلن دوستو دشوار ہے کیوں

 پیار کا آج چلن دوستو دشوار ہے کیوں

آج انسان خود انسان سے بیزار ہے کیوں

آج کے دور نے یہ کون سی کروٹ لی ہے

آج کے دور میں معصوم گنہگار ہے کیوں

بے گناہوں کا لہو شہر میں ارزاں ہی سہی

آسماں پر بھی وہی رنگ نمودار ہے کیوں

میں تو مر جانے کو تیار ہوں دشمن کے لیے

میرا دشمن بھی مگر مرنے کو تیار ہے کیوں

کیا ترے کوچہ ہی کی دین طرحداری ہے

تیرے کوچہ سے جو گزرا وہ طرحدار ہے کیوں

کیوں خلوص اور صداقت سے نہیں کچھ حاصل

مکر ہی مکر زمانے کو سزاوار ہے کیوں

تیرے مے خانے کے فیضان و کرم سب تسلیم

تیرے مے خانے کا ہر جام نگوں سار ہے کیوں

کل تک اس شوخ کی یادوں پہ تھا جینے کا مدار

آج اس شوخ کی ہر یاد گراں بار ہے کیوں

گوشۂ دل میں بھی بت خانے ہوا کرتے ہیں

قادر اس بات سے اب آپ کو انکار ہے کیوں


قادر صدیقی

No comments:

Post a Comment