Friday, 11 February 2022

چاہ کر بھی میں ریاکار نہیں ہو سکتا

 چاہ کر بھی میں ریاکار نہیں ہو سکتا

میں کبھی تجھ سا اداکار نہیں ہو سکتا

تُو اگرچہ ہے مِری پہلی محبت، لیکن

میں فقط تیرا طلبگار نہیں ہو سکتا

ہے کوئی شخص جو اس قفل کو کھولے

ورنہ بند کمرہ تو ہوا دار نہیں ہو سکتا

ہاتھ تُو نے بھی اٹھائے تھے کبھی وقتِ دعا

میں اکیلا تو خطاکار نہیں ہو سکتا

یہ کہانی تو ابھی اور الجھ سکتی ہے

یعنی میں آخری کردار نہیں ہو سکتا


عبداللہ سفیر

No comments:

Post a Comment