چاہ کر بھی میں ریاکار نہیں ہو سکتا
میں کبھی تجھ سا اداکار نہیں ہو سکتا
تُو اگرچہ ہے مِری پہلی محبت، لیکن
میں فقط تیرا طلبگار نہیں ہو سکتا
ہے کوئی شخص جو اس قفل کو کھولے
ورنہ بند کمرہ تو ہوا دار نہیں ہو سکتا
ہاتھ تُو نے بھی اٹھائے تھے کبھی وقتِ دعا
میں اکیلا تو خطاکار نہیں ہو سکتا
یہ کہانی تو ابھی اور الجھ سکتی ہے
یعنی میں آخری کردار نہیں ہو سکتا
عبداللہ سفیر
No comments:
Post a Comment