Friday, 11 February 2022

بیٹھے بیٹھے ہی آ گیا یہ خیال

بیٹھے بیٹھے ہی آ گیا یہ خیال

شاہ جی! مست ہو کے جام اُچھال

موت کا حسن دیکھنے کے لیے

موت کا خوف اپنے دل سے نکال

سوچ میں ہوں کہ پَر نکل آئیں

اس لیے گِر رہے ہیں سر کے بال

کس طرح میں بیاں کروں گا تجھے

جب تِری کوئی بھی نہیں ہے مثال

جو بھی جس کا ہے خود سنبھالے گا

تُو مِرا حال دیکھ مجھے سنبھال

ہونے والا ہے جو وہ سُن آ کر

جو ہوا چھوڑ اس پہ مٹی ڈال

ڈالتے ہیں درخت میری جگہ

میں نے تو چھوڑ دی ہے کب سے دھمال


خرم شاہ

No comments:

Post a Comment