کیسے کیسے خواب گنوا کر آیا ہوں
لیکن عشق میں نام کما کر آیا ہوں
تھوڑی سی تاخیر سے پہنچا ہوں لیکن
اپنا رستہ آپ بنا کر آیا ہوں
اُس رستے میں جانے کتنے پتھر تھے
جس رستے کو میں پلٹا کر آیا ہوں
لوگ تِری تصویر اٹھا کر لائے ہیں
میں تیری آواز اٹھا کر آیا ہوں
مجھ سے بڑھ کر کس کا خون جلا ہو گا
میں پانی میں آگ لگا کر آیا ہوں
میں نے خود سے تھوڑا آگے چلنا تھا
سو اپنی رفتار بڑھا کر آیا ہوں
وہ غزلیں جو تیری خاطر لکھی تھیں
شہر میں سب کو آج سنا کر آیا ہوں
عاطف شبیر
No comments:
Post a Comment