Friday, 11 February 2022

کیسے کیسے خواب گنوا کر آیا ہوں

 کیسے کیسے خواب گنوا کر آیا ہوں

لیکن عشق میں نام کما کر آیا ہوں

تھوڑی سی تاخیر سے پہنچا ہوں لیکن

اپنا رستہ آپ بنا کر آیا ہوں

اُس رستے میں جانے کتنے پتھر تھے

جس رستے کو میں پلٹا کر آیا ہوں

لوگ تِری تصویر اٹھا کر لائے ہیں

میں تیری آواز اٹھا کر آیا ہوں

مجھ سے بڑھ کر کس کا خون جلا ہو گا

میں پانی میں آگ لگا کر آیا ہوں

میں نے خود سے تھوڑا آگے چلنا تھا

سو اپنی رفتار بڑھا کر آیا ہوں

وہ غزلیں جو تیری خاطر لکھی تھیں

شہر میں سب کو آج سنا کر آیا ہوں


عاطف شبیر

No comments:

Post a Comment