عارفانہ کلام نعتیہ کلام
فوزی قلم اٹھا ذرا کاغذ کو چُوم کر
لفظوں کو انؐ کی نعت سے، ماہ و نجوم کر
ہر غم کو بھولنے کا ہے نسخۂ کیمیا
پڑھتے رہیں درود سدا جھوم جھوم کر
جاتی نہیں ہے تشنگی بھرتا نہیں ہے دل
چوکھٹ درِ حضورﷺ کی سو بار چوم کر
جی چاہتا ہے چوم لوں دشمن کے پیر بھی
آئے ہیں سوہنے یار کی نگری میں گھوم کر
تصویر میں ہی دیکھ لوں روضے کی جالیاں
آنکھیں ترس رہی ہیں ذرا اور زوم کر
فوزیہ شیخ
No comments:
Post a Comment