Friday, 11 February 2022

لوگ بے وجہ کیوں موت کے منتظر ہیں

سانسوں کی پیغمبری


بارہا ایسی تنہائیوں میں

کہ جب تیرگی بول اٹھے

ذائقہ موسموں کا زباں پر یکایک بدل جائے

ہم سب یہی سوچتے ہیں

کہ شاید کوئی اور ہیں

مگر کون؟

وقفۂ عمر میں کس نے سمجھا ہے

سب موت ہی کو وصال اپنا کہتے ہیں

سب موت کے منتظر ہیں

میں نے اور صرف میں نے

تیری سانسوں میں

تیری سانسوں میں

اپنا امڈتا برستا ہوا سیل دیکھا ہے

جو روز اول اور آخر مقدر ہے

جو ابتدا انتہا ہے

لوگ جس کے لیے موت کے منتظر ہیں

لوگ بے وجہ کیوں موت کے منتظر ہیں؟

کوئی شے جھیل کی تہ میں جب ڈوبتی ہے

تو اک بلبلہ جاگتا ہے

کتنا بے چین سیماب پا

راز تہہ کے اگلتا ہے اور ٹوٹتا ہے

اسی دم

سطح کو چومتی سب ہوائیں یہ کہتی ہیں

کچھ بھی نہیں

کسی تہ میں گہرائی میں کچھ نہیں

موت بے فیض سا سانحہ ہے

لوگ بے وجہ کیوں موت کے منتظر ہیں؟


قاضی سلیم

No comments:

Post a Comment