Friday, 11 February 2022

بھیگی پلکیں شوق کا عالم وقت کا دھارا کیا نہیں دیکھا

بھیگی پلکیں شوق کا عالم وقت کا دھارا کیا نہیں دیکھا

ہنستے آنسُو، تلخ تبسم، میٹھا غصہ، کیا نہیں دیکھا

چھلنی سینے روشن چہرے خونیں آنکھیں رنگیں دامن

ٹھنڈی آہیں، ویراں نظریں، حشر تمنا، کیا نہیں دیکھا

راہ پہ پہرے نُطق پہ قدغن شوق کی یورش دل کی دھڑکن

بولتی نظریں بوجھل پلکیں، غمگیں چہرہ کیا نہیں دیکھا

سوتی قسمت جاگتے انساں اُجڑی بستی شمع فروزاں

جُھوٹے قصے، اُلٹی تہمت، بات کا بننا کیا نہیں دیکھا

بکھری زُلفیں اُلجھی باتیں آنکھ میں شوخی لب پہ تبسم

کھلتی کلیاں، جُھومتی ڈالی، حشر سراپا کیا نہیں دیکھا

بزم چراغاں جُھوٹی خُوشیاں، نخوت ساقی، تشنہ دہانی

گردش ساغر، عالم مستی، تندیٔ صبا کیا نہیں دیکھا

پُھول سی باہیں لرزاں سینہ، سانس اُلجھتے بھولی باتیں

نیچی نظریں، پہلی لغزش، دل کا تقاضا کیا نہیں دیکھا

یاور! ہم کو پا نہ سکو گے جیسے اب ہیں ایسے کب تھے

دل کی نزاکت، جُرم محبت، کُفر تمنا، کیا نہیں دیکھا

آج بھی یاور! ہنستے ہنستے، آنکھ میں آنسو آ جاتے ہیں

درد کی موجیں خُون کی لہریں، آگ کا دریا کیا نہیں دیکھا


یاور عباس

No comments:

Post a Comment