Wednesday, 9 February 2022

رفتہ رفتہ دل میں اک الجھن نئی پاتے ہیں ہم

 رفتہ رفتہ دل میں اک الجھن نئی پاتے ہیں ہم

ہم یہ سمجھے تھے کہ ان کو بھولتے جاتے ہیں ہم

اس کو کیا کیجے کہ یہ بھی کھیل ہے تقدیر کا

ڈھونڈتے ہیں جب انہیں اپنا پتہ پاتے ہیں ہم

ایسی دنیا سے شکایت کیا، گلہ کیا، رنج کیا

پھول برساتی ہے دنیا، آگ برساتے ہیں ہم

بے طلب حسن عطا کی شان ہی کچھ اور ہے

آپ کہتے ہیں تو لیجے ہاتھ پھیلاتے ہیں ہم

اپنی رودادِ الم کی اب وہ منزل آ گئی

کوئی سنتا ہو نہ سنتا ہو کہے جاتے ہیں ہم

لیجئے، ترکِ تعلق کا تہیہ کر لیا

دیکھنا یہ ہے اسے کب تک نبھا پاتے ہیں ہم

اے وفور زندگی تلخابۂ ہستی نہ پوچھ

ذہن کی خوش فہمیوں سے دل کو بہلاتے ہیں ہم

رنجشِ بے جا نے ان کی کر دیا عالم ہی اور

زندگی کے نام کی گویا سزا پاتے ہیں ہم

دوست نا خوش اقربا ناراض برہم گھر کے لوگ

سچ کا دامن تھام کر اچھا صلہ پاتے ہیں ہم

کچھ عجب فطرت ہے قادر درد دل کی آج کل

جب کوئی دیتا ہے تسکیں اور گھبراتے ہیں ہم


قادر صدیقی

No comments:

Post a Comment