عہد و پیماں کر کے پیمانے کے ساتھ
عمر گزری تیرے مےخانے کے ساتھ
زندگی" بھی "جی چرا" کر رہ گئی"
کون مرتا تیرے دیوانے کے ساتھ
"یہ" نہ "پوچھو" رَہ نوردانِ "حرم"
خود بخود "حل" ہو گئے کتنے سوال
وقت کے خاموش افسانے کے ساتھ
اے "فقیہِ" شہر! کیا اس کا "علاج"؟
چشمِ ساقی بھی ہے "پیمانے" کے ساتھ
ہوش مندوں پر "گراں" ہیں اے روش
ان کی باتیں تجھ سے دیوانے کے ساتھ
روش صدیقی
No comments:
Post a Comment