Sunday, 19 July 2020

عہد و پیماں کر کے پیمانے کے ساتھ

عہد و پیماں کر کے پیمانے کے ساتھ
عمر گزری تیرے مےخانے کے ساتھ
زندگی" بھی "جی چرا" کر رہ گئی"
کون مرتا تیرے دیوانے کے ساتھ
"یہ" نہ "پوچھو" رَہ نوردانِ "حرم"
کون چھوٹا ہم سے بتخانے کے ساتھ
خود بخود "حل" ہو گئے کتنے سوال
وقت کے خاموش افسانے کے ساتھ
اے "فقیہِ" شہر! کیا اس کا "علاج"؟
چشمِ ساقی بھی ہے "پیمانے" کے ساتھ
ہوش مندوں پر "گراں" ہیں اے روش
ان کی باتیں تجھ سے دیوانے کے ساتھ

روش صدیقی

No comments:

Post a Comment