عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ
ازل سے تا بہ ابد کبریا حسین کے ساتھ
علی بتول حسن مصطفیٰ حسین کے ساتھ
وفا کے رب نے یہ مقتل میں شہ سے فرمایا
قسم بتول کی ہو گی وفا حسین کے ساتھ
غضب خدا کا کہ تُو ہے بہشت کا طالب
کرے الست سے جو تُو دغا حسین کے ساتھ
ملا ہے درس یہی کربلا کی مٹی سے
فنا یزید کے ہمراہ بقا حسین کے ساتھ
ابو البشر کو نصحیت ہوئی پیمبر کی
گہر خصال ہے جیون سدا حسین کے ساتھ
صدا صغیر نے دی تیر کھا کے مادر کو
"مِرے سرہانے ہیں مشکل کشا حسین کے ساتھ"
درود جب بھی نبیؐ پر ہے مرتضیٰ نے پڑھا
ہوا ہے محوِ ثنا خود خدا حسین کے ساتھ
مرتضیٰ زمان گردیزی
No comments:
Post a Comment