عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ بر امام و شہدائے کربلا
کیسے عیب تھے وہ نظارے فرات کے
پیاسے تھے اہلِ بیعت کنارے فرات کے
ہوا شہید اصغرِ کم سِن تشنہ لب
پیاسی رہی سکینہ کنارے فرات کے
ہے یاد گار تابہ ابد دِین کے لیے
سجدہ تِرا حسین کنارے فرات کے
اس داستانِ حق نے سنوارا ہے دِین کو
جو رقم ہو گئی ہے کنارے فرات کے
حق پہ شہید ہو کے امر ہو گئے حسین
باطن فنا ہوا کنارے فرات کے
اب فوزیہ حسین کی یادوں میں ڈوب کر
جلتے ہیں پانیوں سے کنارے فرات کے
فوزیہ مغل
No comments:
Post a Comment