عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ
درِ شبیرؑ پہ پلکوں کو بِچھانے والے
ہم حسینی ہیں عَلم دل پہ لگانے والے
حرُملہ تیر چلا تجھ میں اگر ہے ہمت
ڈر نہیں سکتے محمدﷺ کے گھرانے والے
جان پیاری ہے تو چُھپ جاؤ یزیدو کہ ابھی
تیغ اصغر ہیں تبسم کی چلانے والے
مجھ کو تاریخ کےاوراق بتاتے ہیں حسینؑ
مِٹ گئے تیرے گھرانے کو مٹانے والے
یعنی مدحت سخی عباسؑ کی سُن کر، زینبؑ
جل گئے ہیں تِرے خیّام جلانے والے
مبشر سعید
No comments:
Post a Comment