عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ
بولی فضہؑ سے یہ زینبؑ ہے قیامت دیکھو
سر بریدہ ہے مِرے بھائی کی میت دیکھو
لوٹنے آئے ہیں عباسؑ تِرے بعد عدو
کانوں سے بالی سکینہؑ کی ہاں دولت دیکھو
دے سکی کرب و بلا میں نہ کفن بھائی کو
ہائے زینبؑ پہ یہ کیسی ہے مصیبت دیکھو
شمر لے جانی پڑے گی تجھے زینبؑ کی ردا
ابنِ مرجانا سے گر لینی ہے قیمت دیکھو
شاہِ لولاک تِرا دین بچانے کے لیے
بے رِدا شام چلی ہے تِری عترت دیکھو
لے کے آیا ہے اسے شام کے دربار لعیں
مرتضیٰؑ کے ہاں رخِ پاک کی زینت دیکھو
مرتضیٰ زمان گردیزی
No comments:
Post a Comment