Monday, 16 August 2021

بہت حسیں لگا پرچم کا ہر نظارہ بھی

 بہت حسیں لگا پرچم کا ہر نظارہ بھی

وطن ملا تو ملا چاند بھی ستارہ بھی

ہے جیسے پانیوں پہ تیرتا کنول کا پھول

سو کائنات کا کوئی تو ہے کنارا بھی

یہ ایک راستہ ہی گھر کی سمت لاتا تھا

اسے بنایا بھی میں نے اسے سنوارا بھی

دمک رہا ہوں وطن تیری موجِ روشن سے

کہ منعکس ہو کرن کی مثالِ پارہ بھی

بہ خوابِ معتبر اس کو وجود میں لایا

دکھا کے زور الگ سوچ کا وہ دھارا بھی

کسی بہار سے ملنے کے بعد بھی عارف

کسی بہار سے ہی یہ ملے دوبارہ بھی


عسکری عارف

No comments:

Post a Comment