بہت حسیں لگا پرچم کا ہر نظارہ بھی
وطن ملا تو ملا چاند بھی ستارہ بھی
ہے جیسے پانیوں پہ تیرتا کنول کا پھول
سو کائنات کا کوئی تو ہے کنارا بھی
یہ ایک راستہ ہی گھر کی سمت لاتا تھا
اسے بنایا بھی میں نے اسے سنوارا بھی
دمک رہا ہوں وطن تیری موجِ روشن سے
کہ منعکس ہو کرن کی مثالِ پارہ بھی
بہ خوابِ معتبر اس کو وجود میں لایا
دکھا کے زور الگ سوچ کا وہ دھارا بھی
کسی بہار سے ملنے کے بعد بھی عارف
کسی بہار سے ہی یہ ملے دوبارہ بھی
عسکری عارف
No comments:
Post a Comment