Monday, 16 August 2021

ہماری روح کو چھو کر گزر گیا ہے ابھی

ہماری رُوح کو چھُو کر گُزر گیا ہے ابھی

وہ ایک لمحہ نہ جانے کدھر گیا ہے ابھی

کہ دور عشق میں اس کا بھی ایک جسم تو تھا

مجھے ہے شک وہ فضا میں بکھر گیا ہے ابھی

خزانے ڈھونڈتا ہے وہ اگر تو لے جائے

ہماری آنکھ سے ضائع گُہر گیا ہے ابھی

جبیں پہ لہریں تھیں بِھیتر بدن میں طُوفاں تھا

خدا کا شکر ہے دریا اُتر گیا ہے ابھی

تمام عمر دئیے میں نے وقت کو طعنے

ابھی سکون ہے تھوڑا سُدھر گیا ہے ابھی


دخلن بھوپالی

بھیتر: اندرونی، مخفی

No comments:

Post a Comment