عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ
رضا و صبر کے جوہر دکھا رہے ہیں حسینؑ
ستمگروں میں گھرے مسکرا رہے ہیں حسین
خدا کی راہ میں خود کو لٹا رہے ہیں حسین
وہ کربلا کی طرف بڑھتے جا رہے ہیں حسین
بہا کے لہو اپنا نینوا کے ذروں میں
زمیں کو عرش کا ہمسر بنا رہے ہیں حسین
نہ کیوں بپا ہو قیامت کا شور خیموں میں
کہ لاشے قاسمؑ، و اکبرؑ کے لا رہے ہیں حسین
لرز نہ جائے بھلا کیوں زمیں مقتل کی
سر اپنا سجدہ حق میں کٹا رہے ہیں حسین
خیال آیا تھا ان کا کہ دل ہوا روشن
نصیر سر تو اٹھاؤ وہ آ رہے ہیں حسین
سید نصیرالدین نصیر
No comments:
Post a Comment