دونوں میں کوئی ایک ہے اے خوبرو غلط
میں ہوں اگر صحیح، تو یقیناً ہے تو غلط
میں بدگماں ہوں ان سے زرا سچ بتائے
کس نے اڑائی ہے یہ خبر کو بکو غلط
مجھ کو یہ خوف ہے کہ زمانے کے نام سے
دل میں نہ جاگ جائے کوئی آرزو غلط
ساقی سے مت الجھ کسی زاہد سے پوچھ کہ
کیوں آپ کی نظر میں ہے جام و سبو غلط
ان سے کوئی امید بھی رکھنا فضول ہے
میرے خلاف باتیں کریں گے عدو غلط
ہنستے ہیں فن پہ آپ کے دامن کے تار تار
جب سے کیا ہے آپ نے داماں رفو غلط
ہم ڈھونڈتے ہی رہتے وہ ملتے نہ عمر بھر
ہوتی اسد ہماری اگر جستجو غلط
اسد ہاشمی
No comments:
Post a Comment