Saturday, 16 April 2022

آس کا پنچھی پر پھیلائے

 آس کا پنچھی پر پھیلائے

بہتا دریا شور مچا ئے

تِری چاہ کے اس جنگل میں

یاد کی ناگن ڈستی جائے

جیون کی اس راہ پہ اکثر

بڑھ جاتے ہیں اپنے سائے

ساجن تِری راہ تکے ہیں

من مندر میں دیپ جلائے

تِری یاد اتر آتی ہے

شام نے جیسے پر پھیلائے


اکرام الحق

No comments:

Post a Comment