Monday, 4 April 2022

نظریں خرید لوں کہ نظارہ خرید لوں

 نظریں خرید لوں کہ نظارا خرید لوں

بتلاؤ کیا میں تم سے تمہارا خرید لوں

کچھ بھی بچا کہ رکھوں نہ غیروں کے واسطے

سب کچھ میں آج تم سے تمہارا خرید لوں

نقد و ادھار جیسے بھی ہو دل کا حکم ہے

تم سے میں تم کو سارا کہ سارا خرید لوں

چمکا رہا ہے جو مِرے بختِ سیاہ کو

کوشش یہی ہے کہ میں وہ تارا خرید لوں

ہر گام پہ جو کام مجھے آ سکے اسد

میں چاہتا ہوں میں وہ سہارا خرید لوں


اسد ہاشمی

No comments:

Post a Comment