نظریں خرید لوں کہ نظارا خرید لوں
بتلاؤ کیا میں تم سے تمہارا خرید لوں
کچھ بھی بچا کہ رکھوں نہ غیروں کے واسطے
سب کچھ میں آج تم سے تمہارا خرید لوں
نقد و ادھار جیسے بھی ہو دل کا حکم ہے
تم سے میں تم کو سارا کہ سارا خرید لوں
چمکا رہا ہے جو مِرے بختِ سیاہ کو
کوشش یہی ہے کہ میں وہ تارا خرید لوں
ہر گام پہ جو کام مجھے آ سکے اسد
میں چاہتا ہوں میں وہ سہارا خرید لوں
اسد ہاشمی
No comments:
Post a Comment