ان آنکھوں کے مرتے سپنے دیکھ چُکا ہوں
تجھ کو غیر کا ہاتھ پکڑتے دیکھ چکا ہوں
انسانوں سے وحشت مجھ کو کیوں نہ ہو
جب میں ان کے اصلی چہرے دیکھ چکا ہوں
جن صدمات کی زد میں آ کر تُو رویا ہے
ان صدمات کو روز گزرتے دیکھ چکا ہوں
جس کی وڈیو نیٹ پہ پھیل چکی ہے اُس کو
سچے پیار کی مالا جپتے دیکھ چکا ہوں
اک جنگل ہے اور اس میں اک روتا بچہ
یار میں اندر جھانک کے اپنے دیکھ چکا ہوں
عثمان نیاز
No comments:
Post a Comment