میری چاہت مِرے الفت کی کہانی سن لو
لب تو خاموش ہیں اشکوں کی زبانی سن لو
چھوڑ کر جانا ہے تم کو تو چلی جاؤ مگر
یاد آئے گا بہت دلبر و جانی، سن لو
خواہشوں کے لیے بند کر کے در دل سوچا
عمر تھوڑی ہے یہ دنیا بھی ہے فانی سن لو
وقت رخصت یہ شب غم کے ستاروں نے کہا
اب نہ آئے گی کوئی صبح سہانی سن لو
دیکھ کر تم کو جو محسوس کیا ہے دل نے
آج وہ دھڑکن دل کی ہی زبانی سن لو
پھول سا چہرہ سیاہ زلف غزالی آنکھیں
عشق کہتا ہے، محبت کی زبانی سن لو
پھر کہیں اشک کی برسات ہوئی جان اسد
پھر کسی نے یہ کہا میری کہانی سن لو
اسد ہاشمی
No comments:
Post a Comment