Monday, 18 April 2022

ہم کیسے یہ کہہ دیں کہ نہیں کوئی ہمارا

 ہم کیسے یہ کہہ دیں کہ نہیں کوئی ہمارا

مرنے کی تمنا بھی ہے جینے کا سہارا

لینا وہ گِرا ٹوٹ کے دامانِ فلک سے

قسمت کا ستارا، مِری قسمت کا ستارا

گرتے ہیں وہی جن کو سنبھلنا نہیں آتا

محتاج بنا دیتا ہے انساں کو سہارا

ہونے لگی جنبش مِری مفلوج پروں میں

یہ کس نے مجھے اوجِ ثریا سے پکارا

بیٹھے رہیں وہ انجمنِ ناز سجائے

اب تو مِِری تنہائی ہے خود انجمن آرا


حزیں صدیقی

No comments:

Post a Comment