Monday, 18 April 2022

لفظ کر پاتے کہاں ہیں مدعا دل کا بیاں

 لفظ کر پاتے کہاں ہیں مدعا دل کا بیاں

بات کیجے مختصر بس، خامشی کیجے زباں

آپ جیسا مہرباں، جب ہو گیا نا مہرباں 

کیا کریں گے ہم بھلا پھر اور کوئی قدر داں

پاؤں میں اب نہ زمیں ہے، نہ ہے سر پہ آسماں

پھر یہ کیسا زعم ہم کو، اپنا ہے سارا جہاں 

ایک تو بے چارہ دل تھا خود ازل سے ناتواں 

اور  پھر حصہ میں اس کے، ہے مسلسل اک خزاں

عشق ایسا روگ ناداں چھوڑتا کب ہے نشاں

خاک تک باقی نہیں اب اور تم ڈھونڈو مکاں

آپ سے مل کر ہوا ہے راز ہم پر یہ عیاں

زندگی طوفان ہے اک اور محبت بادباں

آج پھر سے رات ہم پر ہو رہی ہے مہرباں

آج پھر سے چاند پر ہم کو ہوا ان کا گماں

آپ نے چھیڑی بھلا کیوں اپنی ابرک داستاں

زخم جو بھرنے کو تھے وہ ہو گئے پھر سے عیاں


اتباف ابرک

No comments:

Post a Comment