کوئی سنتا نہیں صحرا کی صدا ہو جیسے
میری فریاد بھی مفلس کی دعا ہو جیسے
تیرے آنے سے یہ احساس ہوا ہے مجھ کو
بعد مُدت کے دِیا گھر میں جلا ہو جیسے
وقتِ رُخصت تِری پلکوں پہ چمکتے آنسو
تھرتھراتا سا ہواؤں میں دِیا ہو جیسے
تیرے رخسار پہ پھیلے ہوئے گیسو ہمدم
رخ پہ مہتاب کے ساون کی گھٹا ہو جیسے
اپنے حالات کی تشریح فقط ہے اتنی
تپتے صحرا میں کوئی شخص کھڑا ہو جیسے
زندگی ایسے مسائل میں گھری ہے اس کی
نصر پر کوئی بُرا وقت پڑا ہو جیسے
نصراللہ نصر
No comments:
Post a Comment