Monday, 18 April 2022

کوئی سنتا نہیں صحرا کی صدا ہو جیسے

کوئی سنتا نہیں صحرا کی صدا ہو جیسے

میری فریاد بھی مفلس کی دعا ہو جیسے

تیرے آنے سے یہ احساس ہوا ہے مجھ کو

بعد مُدت کے دِیا گھر میں جلا ہو جیسے

وقتِ رُخصت تِری پلکوں پہ چمکتے آنسو

تھرتھراتا سا ہواؤں میں دِیا ہو جیسے

تیرے رخسار پہ پھیلے ہوئے گیسو ہمدم

رخ پہ مہتاب کے ساون کی گھٹا ہو جیسے

اپنے حالات کی تشریح فقط ہے اتنی

تپتے صحرا میں کوئی شخص کھڑا ہو جیسے

زندگی ایسے مسائل میں گھری ہے اس کی

نصر پر کوئی بُرا وقت پڑا ہو جیسے


نصراللہ نصر

No comments:

Post a Comment