تِری چوکھٹ پہ سر رکھ کے جو مر جاتے تو اچھا تھا
ہم اپنے پیار میں حد سے گزر جاتے تو اچھا تھا
بچھڑنے سے ذرا پہلے بہک جاتا جنوں میرا
مِرے پہلو میں وہ گیسو بکھر جاتے تو اچھا تھا
ہمیں رسموں رواجوں سے نہیں تھا واسطہ رکھنا
ہم اپنے دل کی دنیا میں اُتر جاتے تو اچھا تھا
محبت میں جو گزرے ہیں وہی دو پل ہمارے تھے
وہی دو پل ہمیشہ کو ٹھہر جاتے تو اچھا تھا
پیامِ شوق جو میرا لیے پھرتے تھے آوارہ
کبوتر وہ تِری چھت پر اپتر جاتے تو اچھا تھا
قمر! اس بے مہر دنیا میں جینا کیسا جینا ہے
ہم اپنے عشق میں جل کر نکھر جاتے تو اچھا تھا
سید ارشاد قمر
No comments:
Post a Comment