Wednesday, 13 April 2022

تو بے رخی سے سہی ہم سے ہمکلام تو ہے

 تُو بے رخی سے سہی ہم سے ہمکلام تو ہے

تِرے حیسن لبوں پہ ہمارا نام تو ہے

تُو دیکھتے ہی جھکا لیتا ہے نگاہوں کو

تِری نظر میں مِرا اتنا احترام تو ہے

یہ اور بات کے ملتے نہیں ہیں ہم دونوں

ہمارے بیچ میں لیکن دعا سلام تو ہے

جو چاہے آ کے بجھائے وہ تشنگی اپنی

تمہاری بزم میں اس قدر اہتمام تو ہے

تمہارى یاد کی تنویر سے اے جانِ اسد

شمع کی طرح سے روشن ہماری شام تو ہے


اسد ہاشمی

No comments:

Post a Comment