یاد آتا ہے وہ بھولے ہوئے خوابوں کی طرح
کاش تعبیر بھی ہو جائے گلابوں کی طرح
تجھ کو شاید نہ خبر ہو کے تِرے چہرے پہ
حال دل پڑھ لیا میں نے بھی کتابوں کی طرح
میں نے اے دل یہی چاہا تھا کہ وقتِ رخصت
اشک حائل نہ ہو آنکھوں پہ نقابوں کی طرح
مدتیں ہو گئیں ہم نے بھی کتاب دل میں
تیری تصویر کو رکھا ہے گلابوں کی طرح
زندگی جتنی بھی گزری ہے تری فرقت میں
ایسا لگتا ہے کہ گزری ہے عذابوں کی طرح
مجھ کو دیکھا جو سر راہ کہا چپکے سے
حال اپنا نہ بنا خانہ خرابوں کی طرح
اے اسد! مجھ سے تو ہشیار ہی رہنا ہر دم
جانے کب سر سے گزر جاؤں عذابوں کی طرح
اسد ہاشمی
No comments:
Post a Comment