Thursday, 7 April 2022

یاد آتا ہے وہ بھولے ہوئے خوابوں کی طرح

 یاد آتا ہے وہ بھولے ہوئے خوابوں کی طرح

کاش تعبیر بھی ہو جائے گلابوں کی طرح

تجھ کو شاید نہ خبر ہو کے تِرے چہرے پہ

حال دل پڑھ لیا میں نے بھی کتابوں کی طرح

میں نے اے دل یہی چاہا تھا کہ وقتِ رخصت

اشک حائل نہ ہو آنکھوں پہ نقابوں کی طرح

مدتیں ہو گئیں ہم نے بھی کتاب دل میں

تیری تصویر کو رکھا ہے گلابوں کی طرح

زندگی جتنی بھی گزری ہے تری فرقت میں

ایسا لگتا ہے کہ گزری ہے عذابوں کی طرح

مجھ کو دیکھا جو سر راہ کہا چپکے سے

حال اپنا نہ بنا خانہ خرابوں کی طرح

اے اسد! مجھ سے تو ہشیار ہی رہنا ہر دم

جانے کب سر سے گزر جاؤں عذابوں کی طرح


اسد ہاشمی

No comments:

Post a Comment