Thursday, 7 April 2022

زیست کے عجب مسائل ہیں حل ہوتے ہوتے ہوتے ہیں

 زیست کے عجب مسائل ہیں حل ہوتے ہوتے ہوتے ہیں 

کاندھے بوجھ کی شدت سے شل ہوتے ہوتے ہوتے ہیں

اک شب کی چوپال میں کیسے عمر کا نقشہ کھینچیں ہم

یہ قصے تو یار! مکمل ہوتے ہوتے ہوتے ہیں

ہجر کا موسم پت جھڑ جیسا جاتے جاتے جاتا ہے

کرب کے منظر آنکھ سے اوجھل ہوتے ہوتے ہوتے ہیں

عشق شریعت ہے اور اس کو عقل سے کوئی کام نہیں

پاگل ہیں وہ لوگ جو پاگل ہوتے ہوتے ہوتے ہیں

لوگ ہی اتنے تھے دل کو خالی ہونے میں وقت لگا

ہنستے بستے شہر بھی جنگل ہوتے ہوتے ہوتے ہیں

اپنے نام کے پیمانے سے ناپ نہیں اپنے قد کو

لوگ تو اس میدان میں افضل ہوتے ہوتے ہوتے ہیں


افضل خان

No comments:

Post a Comment