زیست کے عجب مسائل ہیں حل ہوتے ہوتے ہوتے ہیں
کاندھے بوجھ کی شدت سے شل ہوتے ہوتے ہوتے ہیں
اک شب کی چوپال میں کیسے عمر کا نقشہ کھینچیں ہم
یہ قصے تو یار! مکمل ہوتے ہوتے ہوتے ہیں
ہجر کا موسم پت جھڑ جیسا جاتے جاتے جاتا ہے
کرب کے منظر آنکھ سے اوجھل ہوتے ہوتے ہوتے ہیں
عشق شریعت ہے اور اس کو عقل سے کوئی کام نہیں
پاگل ہیں وہ لوگ جو پاگل ہوتے ہوتے ہوتے ہیں
لوگ ہی اتنے تھے دل کو خالی ہونے میں وقت لگا
ہنستے بستے شہر بھی جنگل ہوتے ہوتے ہوتے ہیں
اپنے نام کے پیمانے سے ناپ نہیں اپنے قد کو
لوگ تو اس میدان میں افضل ہوتے ہوتے ہوتے ہیں
افضل خان
No comments:
Post a Comment