Thursday, 7 April 2022

سلسلے غم کے ملے ہیں چاندنی راتوں میں اور

 سلسلے غم کے ملے ہیں چاندنی راتوں میں اور

ہجر کی راتوں میں اور دل کی ملاقاتوں میں اور 

کیا خبر کب پائیں گے ہر گام پر شامِ بخیر 

ظلم کے مقتل ملیں گے پھر سیہ راتوں میں اور

پھر کہ ساون کے لیے جلنے لگیں ہین تن بدن

پھر نگر دل کے جلیں گے اب کے برساتوں میں اور

دن تو پھوٹیں ہجر سے راتیں جفا کی شام سے 

کون ڈھونڈے با وفا ایسے دنوں راتوں میں اور 

وصل کے کچھ خواب ہیں بیتاب آنکھوں کے سراب 

داغ دل کے جل اٹھے دل کی مداراتوں میں اور

چند اک پیمان بھولے دل پشیمانِ وفا 

چند اک حرفِ غلط ہیں اب مناجاتوں میں اور 

جل گئے مہتاب خوں کے غم کے عامر بام و در

کچھ بہم ہوتے جنوں بھی دل کی باراتوں میں اور


عامر یوسف

No comments:

Post a Comment