سلسلے غم کے ملے ہیں چاندنی راتوں میں اور
ہجر کی راتوں میں اور دل کی ملاقاتوں میں اور
کیا خبر کب پائیں گے ہر گام پر شامِ بخیر
ظلم کے مقتل ملیں گے پھر سیہ راتوں میں اور
پھر کہ ساون کے لیے جلنے لگیں ہین تن بدن
پھر نگر دل کے جلیں گے اب کے برساتوں میں اور
دن تو پھوٹیں ہجر سے راتیں جفا کی شام سے
کون ڈھونڈے با وفا ایسے دنوں راتوں میں اور
وصل کے کچھ خواب ہیں بیتاب آنکھوں کے سراب
داغ دل کے جل اٹھے دل کی مداراتوں میں اور
چند اک پیمان بھولے دل پشیمانِ وفا
چند اک حرفِ غلط ہیں اب مناجاتوں میں اور
جل گئے مہتاب خوں کے غم کے عامر بام و در
کچھ بہم ہوتے جنوں بھی دل کی باراتوں میں اور
عامر یوسف
No comments:
Post a Comment