Thursday, 7 April 2022

اب دل کے مندر میں کوئی دیا نہیں جلتا

 ہیلو

بہت دن بیت جاتے ہیں

نہ کوئی بات کرتے ہو

نہ خیریت ہی لیتے ہو

کیا میری یاد نہیں آتی

کیا کوئی بھی سوچ کا لمحہ

میری جانب نہیں مڑتا

یہ کیسا دیس ہے جس میں

کسی بھی بات سے تجھ کو

کوئی بھی فرق نہیں پڑتا

ہنسی میری کبھی تو 

دل کو تیرے اتنا بھاتی تھی

کئی کئی بار دن بھر میں 

میری ہی یاد ستاتی تھی

بند جو فون کبھی ملتا تھا

تو تم گھبرا سے جاتے تھے

اور اسی الجھن کو لے کر تم

بہت برہم سے لہجے میں

مجھے تنبیہ سی کرتے تھے

کہاں چلی گئی تھیں ایسے

کہ دل اداس سا کر کے

بہت سا مان ہوتا تھا

کہ اس میں پیار ہوتا تھا

پُروا کے سارے رنگ

ایک احساس میں بندھے

بہت آنسو رلاتے تھے

کہ ذرا سی لاپرواہی پہ بھی

نرم لفظوں کے ساتھ ہی

بڑی قیامت ڈھاتے تھے

مگر یہ کیا ہوا ایسا

وقت بدل گیا کتنا

کہ یہ سب سوچ سکتی ہوں

مگر کچھ کہہ نہیں سکتی

کہ تم بن زندگی 

اچھی نہیں لگتی ذرا سی بھی

کہ اس وجود میں رہتی ہے 

ہر دم اک اداسی سی

بہت دن بیت جاتے ہیں

انہی احساس کی گلیوں میں

کہ جس کے آخری سرے پر

کوئی رستہ نہیں ملتا

کہ اب دل کے مندر میں

کوئی دیا نہیں جلتا


نیلما تصور

No comments:

Post a Comment