ہیلو
بہت دن بیت جاتے ہیں
نہ کوئی بات کرتے ہو
نہ خیریت ہی لیتے ہو
کیا میری یاد نہیں آتی
کیا کوئی بھی سوچ کا لمحہ
میری جانب نہیں مڑتا
یہ کیسا دیس ہے جس میں
کسی بھی بات سے تجھ کو
کوئی بھی فرق نہیں پڑتا
ہنسی میری کبھی تو
دل کو تیرے اتنا بھاتی تھی
کئی کئی بار دن بھر میں
میری ہی یاد ستاتی تھی
بند جو فون کبھی ملتا تھا
تو تم گھبرا سے جاتے تھے
اور اسی الجھن کو لے کر تم
بہت برہم سے لہجے میں
مجھے تنبیہ سی کرتے تھے
کہاں چلی گئی تھیں ایسے
کہ دل اداس سا کر کے
بہت سا مان ہوتا تھا
کہ اس میں پیار ہوتا تھا
پُروا کے سارے رنگ
ایک احساس میں بندھے
بہت آنسو رلاتے تھے
کہ ذرا سی لاپرواہی پہ بھی
نرم لفظوں کے ساتھ ہی
بڑی قیامت ڈھاتے تھے
مگر یہ کیا ہوا ایسا
وقت بدل گیا کتنا
کہ یہ سب سوچ سکتی ہوں
مگر کچھ کہہ نہیں سکتی
کہ تم بن زندگی
اچھی نہیں لگتی ذرا سی بھی
کہ اس وجود میں رہتی ہے
ہر دم اک اداسی سی
بہت دن بیت جاتے ہیں
انہی احساس کی گلیوں میں
کہ جس کے آخری سرے پر
کوئی رستہ نہیں ملتا
کہ اب دل کے مندر میں
کوئی دیا نہیں جلتا
نیلما تصور
No comments:
Post a Comment