Thursday, 7 April 2022

تعمیر ہم نے کی تھی ہمیں نے گرا دئیے

 تعمیر ہم نے کی تھی ہمیں نے گرا دئیے

شب کو محل بنائے سویرے گرا دئیے

کمزور جو ہوئے ہوں وہ رشتے کسے عزیز

پیلے پڑے تو شاخ نے پتے گرا دئیے

اب تک ہماری عمر کا بچپن نہیں گیا

گھر سے چلے تھے جیب کے پیسے گرا دئیے

پتھر سے دل کی آگ سنبھالی نہیں گئی

پہنچی ذرا سی چوٹ پتنگے گرا دئیے

برسوں ہوئے تھے جن کی تہیں کھولتے ہوئے

اپنی نظر سے ہم نے وہ چہرے گرا دئیے

شہر طرب میں رات ہوا تیز تھی بہت

کاندھوں سے مہ وشوں کے دوپٹے گرا دئیے

تاب نظر کو حوصلہ ملنا ہی تھا کبھی

کیوں تم نے احتیاط میں پردے گرا دئیے


نشتر خانقاہی

No comments:

Post a Comment