تعمیر ہم نے کی تھی ہمیں نے گرا دئیے
شب کو محل بنائے سویرے گرا دئیے
کمزور جو ہوئے ہوں وہ رشتے کسے عزیز
پیلے پڑے تو شاخ نے پتے گرا دئیے
اب تک ہماری عمر کا بچپن نہیں گیا
گھر سے چلے تھے جیب کے پیسے گرا دئیے
پتھر سے دل کی آگ سنبھالی نہیں گئی
پہنچی ذرا سی چوٹ پتنگے گرا دئیے
برسوں ہوئے تھے جن کی تہیں کھولتے ہوئے
اپنی نظر سے ہم نے وہ چہرے گرا دئیے
شہر طرب میں رات ہوا تیز تھی بہت
کاندھوں سے مہ وشوں کے دوپٹے گرا دئیے
تاب نظر کو حوصلہ ملنا ہی تھا کبھی
کیوں تم نے احتیاط میں پردے گرا دئیے
نشتر خانقاہی
No comments:
Post a Comment