وہ بھی جا کر وہیں پہ ٹھہرا ہے
خوشبوؤں کا جہاں بسیرا ہے
بس یہی سوچنے میں گم تھا میں
آئینہ ہے کہ تیرا چہرا ہے
میرے دل کے مکان میں جاناں
تیرے ہی نام کا پھریرا ہے
تجربوں سے یہ ہو گیا ثابت
زندگی اک حسین صحرا ہے
جس کی امید ہم لگائے تھے
یار کیا یہ وہی سویرا ہے
ایک دو دن میں یہ بھرے گا نہیں
اے اسد! زخم دل کا گہرا ہے
اسد ہاشمی
No comments:
Post a Comment