Wednesday, 6 July 2022

ڈر لگ رہا ہے

 Primal Fears

اولیں خوف

٭

یاد ہے ایک دوپہر

جب تم آئے تھے اچانک

کھڑکی کے رستے

اور لے گئے تھے مجھ کو

سمندر دکھانے

کیسا روشن دن تھا وہ جس کا ماتھا چومتے 

ہم دو جنوں میں آ کر

سڑکوں پہ یونہی نکل پڑے تھے

یاد ہے وہ لمحہ جب بیچ رستے

پرانے گیت سنائے تھے تم نے

تمہارے سگریٹ سے دو کش لے کر

دھویں کے چھلے بنائے تھے میں نے

میرا ہاتھ چُھو کر دھیرے سے تم نے

بتایا تھا مجھ کو کہ؛ ڈر لگ رہا ہے

مجھے اس خوشی مجھے اس ہنسی سے ڈر لگ رہا ہے

تمہارے ڈر کو مٹانے کی خاطر

کتنے فلسفے گھڑے تھے میں نے

مگر مجھ کو علم تھا جانِ تمنا

تم کو شادمانی سے ڈر لگ رہا ہے

پھر بھی میری محبت میں تم نے

میلوں سفر گُنگنا کر کیا تھا

٭٭

کیسی روشن شام تھی وہ

جس کی انگلی تھامے 

ہم دو بچپنے میں آ کر

ڈولی والے جُھولے پہ چڑھ گئے تھے

یاد ہے وہ لمحہ، اونچائی پہ جا کر

جب ہوا میرے بالوں سے الجھ رہی تھی

اور میں بے تحاشا تم میں مگن تھی

میرا ہاتھ دبا کر آہستہ سے تم نے

بتایا تھا مجھ کو کہ؛ ڈر لگ رہا ہے

مجھے اونچائی سے ڈر لگ رہا ہے

تمہاری توجہ بٹانے کی خاطر

کتنے کرتب کیے تھے میں نے

مگر مجھ کو علم تھا جانِ تمنا

تم کو اونچائی سے ڈر لگ رہا ہے

پھر بھی میری محبت میں تم نے

سات چکر مکمل کیے تھے

٭٭٭

کیسی روشن رات تھی وہ

جسکے پیر تھام کے 

ہم دو سرور میں آ کر

سمندر کنارے چلنے لگے تھے

یاد ہے وہ لمحہ، جب ساحل پہ بیٹھے

سمندر کی لہریں بپھرنے لگی تھیں

ذہن کے پردوں پہ فلمیں کئی چلنے لگی تھیں

ہمارے قدموں کو پانی کے چھینٹے بھگونے لگے تھے

میرے کاندھوں پہ سر ٹکا کے اپنا

دھیمے سے مجھ کو بتایا تھا تم نے

کہ ڈر لگ رہا ہے

مجھے تم کو کھونے سے ڈر لگ رہا ہے

تمہارا دھیان ہٹانے کو اب کے

میرے پاس کوئی توڑ نہیں تھا

کہ مجھ کو معلوم تھا جانِ تمنا

اب کے جو ڈر تم کو لاحق ہوا ہے

محبت میں کئی درجہ تم سے بڑھ کر

یہ خوف مجھ پر طاری ہے کب سے


کومل راجہ

No comments:

Post a Comment