Thursday, 7 July 2022

ستر پوشی کے لیے کچھ تو بچا رہنے دے

 ستر پوشی کے لیے، کچھ تو بچا رہنے دے

زندگی! جسم پہ زخموں کی قبا رہنے دے

دل میں بس عشقِ نبیؐ، رب کی رضا رہنے دے

ساری دنیا ہے اگر، مجھ سے خفا رہنے دے

مجھ کو شداد کی جنت، نہ دِکھا رہنے دے

"میرے دامن کو قناعت سے بھرا رہنے دے"

حرف آ جائے گا، یوں اُس کی خدائی پر بھی

دیر تک کیسے، کسی کو وہ خدا رہنے دے

زندگی ! تُو نے تو سب کچھ ہی مِرا چھین لیا

کاسۂ دستِ دعا کو تو بچا رہنے دے

تیرے لہجے میں، تعلق کی چمک ہے ہی نہیں

مت دے آواز مجھے، اپنی صدا رہنے دے

داغ دھبوں سے، اگر پاک ہے دامن دانش

ہے لگا کپڑوں پہ پیوند، تو لگا رہنے دے


امتیاز دانش ندوی

No comments:

Post a Comment