سینے میں بھرے بُغض کا اظہار تو کرتے
اے یار! مرے یار، کوئی وار تو کرتے
نِروان کا ملنا تھا فقط ایک قدم پر
کیوں لوٹ گئے، دشتِ انا پار تو کرتے
مانگی گئی تھی جب مِرے ہونے کی گواہی
اقرار نہ کرتے،۔ بھلے انکار تو کرتے
بے کیف سا جیون نہ کوئی داغ نہ تہمت
جینے کا مزا لیتے،۔ ارے پیار تو کرتے
ہم خانہ بدوشوں نے تو رکنا ہی کہاں تھا
ہاں پھر بھی ذرا رکنے پہ اصرار تو کرتے
اس درجہ بُرا ہوں تو مِرا تم سے گِلہ ہے
تم جانتے تھے مجھ کو خبردار تو کرتے
بس دل میں اتاری گئی الزام کی برچھی
تھوڑا سا کرم اور، جگر پار تو کرتے
شہاب عالم
No comments:
Post a Comment