Thursday, 7 July 2022

ایسی بھی صورت حالات نہ سمجھی جائے

ایسی بھی صُورت حالات نہ سمجھی جائے 

میری پسپائی مِری مات نہ سمجھی جائے 

یہ تو رستے مجھے لے آئے ہیں تیری جانب 

یہ ملاقات، ملاقات نہ سمجھی جائے 

بعض اوقات میں نشے میں نہیں بھی ہوتا 

میری ہر بات مِری بات نہ سمجھی جائے 

اب تو صحرا بھی مِرے ساتھ سفر کرتے ہیں 

صرف وحشت ہی مِرے ساتھ نہ سمجھی جائے 

فیصلے سارے کہیں اور ہُوا کرتے ہیں 

میری رُسوائی مِرے ہاتھ نہ سمجھی جائے 

وقت آنے پہ گلا اپنا دبا سکتا ہوں 

اتنی کمزور مِری ذات نہ سمجھی جائے 


منیر سیفی

No comments:

Post a Comment