ہر آدمی ہے مبتلا رنج و عذاب میں
آرام سے ہے کون جہان خراب میں
رندوں کو کب ہے دوزخ و جنت سے واسطہ
زاہد مگر لگے ہیں حصول ثواب میں
جو لوگ ہیں زمانے میں سرگرم و مستعد
رہتے نہیں الجھ کے خیال اور خواب میں
جس کی ضیا سے ہونی تھی تزئین کائنات
وہ حسن چھپ سکا نہ کسی بھی حجاب میں
دنیا ہے جس کا نام مکمل فریب ہے
اہل نظر نہ کھوئیں کبھی اس سراب میں
یہ واقعہ ہے حضرت ساقی کی زندگی
اب قید ہو کے رہ گئی جام شراب میں
عبدالغفور ساقی
ساقی توڑیلوی
No comments:
Post a Comment