Sunday, 3 July 2022

بے کار کوئی رنج اٹھانے نہیں دیں گے

 بے کار کوئی رنج اٹھانے نہیں دیں گے

آنکھوں میں تِرے خواب ہی آنے نہیں دیں گے

ہم کو تو یہ ورثے میں ملے دکھ ہی، یقیں جان

یک طرفہ محبت بھی نبھانے نہیں دیں گے

کچھ خواب تو جیسے کہ مِرے پیچھے پڑے ہیں

یعنی کہ مجھے آنکھ لگانے نہیں دیں گے

اک اور محبت بھی گلے آن پڑی ہے

اس دل سے مگر تجھ کو بھی جانے نہیں دیں گے

یہ لوگ دعا دیں گے، مگر کام کسی کا

بنتا بھی اگر ہے تو بنانے نہیں دیں گے 

اس بار اداسی سے نمٹنا ہی پڑے گا

اس بار تجھے دھیان سے جانے نہیں دیں گے

یہ غم جو مجھے دن میں ہنساتے ہیں کئی بار

لگتا ہے تِرا سوگ منانے نہیں دیں گے 


جہانزیب ساحر 

No comments:

Post a Comment