وقتِ آخر کسی کو دیکھا ہے
پھر نئی زندگی کو دیکھا ہے
دشت سے کل گزر ہوا میرا
قیس کی خودسری کو دیکھا ہے
آبلے پاؤں کے نہیں دیکھے
منزلِ عاشقی کو دیکھا ہے
رات سورج کےاس پرے جا کے
اک نئی روشنی کو دیکھا ہے
یاد آیا کسی کا جانا مجھے
جب کہیں بے بسی کو دیکھا ہے
تیرے دل کے مکان میں رہ کر
عمر بھر بے گھری کو دیکھا ہے
جس سے بھاگا ہوا تھا مدت سے
آئینے میں اسی کو دیکھا ہے
میں نے جدت کے نام پر فیضی
سر پھری شاعری کو دیکھا ہے
فیضان فیضی
No comments:
Post a Comment