گھر سے نکلوں تو مجھے باپ دعا دیتا ہے
میری منزل کی لگن اور بڑھا دیتا ہے
میرا ایمان ہے جب آپ اسے دیکھتے ہیں
عکس آئینے کی توقیر بڑھا دیتا ہے
کوئی کیا جانے ہے کیا طرزِ اسیری اس کی
شام ہوتے ہی پرندوں کو اڑا دیتا ہے
اس کی باتوں میں وہ تاثیر ہوا کرتی ہے
بات کرتا ہے تو ہر بات بھلا دیتا ہے
بیٹھ جاتا ہے مِرے پاس وہ آ کر اکثر
اور پھر اپنے تعاقب میں لگا دیتا ہے
یونہی دستار اچھالی نہیں جاتی فیضان
یہ زمانہ ہے خطاؤں کی سزا دیتا ہے
فیضان فیضی
No comments:
Post a Comment