Sunday, 15 August 2021

گھر سے نکلوں تو مجھے باپ دعا دیتا ہے

  گھر سے نکلوں تو مجھے باپ دعا دیتا ہے

میری منزل کی لگن اور بڑھا دیتا ہے

میرا ایمان ہے جب آپ اسے دیکھتے ہیں

عکس آئینے کی توقیر بڑھا دیتا ہے

کوئی کیا جانے ہے کیا طرزِ اسیری اس کی

شام ہوتے ہی پرندوں کو اڑا دیتا ہے

اس کی باتوں میں وہ تاثیر ہوا کرتی ہے

بات کرتا ہے تو ہر بات بھلا دیتا ہے

بیٹھ جاتا ہے مِرے پاس وہ آ کر اکثر

اور پھر اپنے تعاقب میں لگا دیتا ہے

یونہی دستار اچھالی نہیں جاتی فیضان

یہ زمانہ ہے خطاؤں کی سزا دیتا ہے


فیضان فیضی

No comments:

Post a Comment