پہلے پیمانے چھلکاؤ، پھر کوئی رنگین غزل
آنکھوں کو مےخانہ بناؤ، پھر کوئی رنگین غزل
یوں تو دن بھر ایسی ویسی باتیں ہوتی رہتی ہیں
کوئی اچھا شعر سناؤ، پھر کوئی رنگین غزل
میں آخر کیا بات کروں ان بوجھل بوجھل لمحوں میں
تم اک دن فرصت میں آؤ، پھر کوئی رنگین غزل
آنکھ میں شوخی لب پہ خموشی زلف کے برہم ہونے تک
اس مصرعے کو شعر بناؤ، پھر کوئی رنگین غزل
مظلوموں کی آہ و فغاں سے رزمی سخت پریشاں ہے
خوشیوں کا ماحول بناؤ، پھر کوئی رنگین غزل
مظفر رزمی
No comments:
Post a Comment