Sunday, 15 August 2021

زندگی کا ہے یہ بھی کوئی ڈھنگ

 زندگی کا ہے یہ بھی کوئی ڈھنگ

نہ کوئی آرزو نہ کوئی امنگ

ہوش کا طور یا خرد کا رنگ

عاشقی کے لیے ہیں دونوں ننگ

عقل حیراں ہے اور فکر ہے دنگ

جلوہ اور وہ بھی سر بہ سر بے رنگ

صلح کل عشق کا ہر اک انداز

حسن کی ہر ادا پیام جنگ

ابھی جیتے ہیں اہرمن زادے

ابھی برپا ہے خیر و شر کی جنگ

اللہ اللہ یہ حسن کا عالم

پھول جیسے کھلے ہوں رنگا رنگ

قہقہے ان کے ساغروں کی کھنک

مسکراہٹ طلوع صبح کا رنگ

کتنی رنگین ہے غزل تیری

بندھ گیا بزم میں جمالی رنگ


بدر جمالی

No comments:

Post a Comment