Monday, 16 August 2021

آنکھ سے دور بہت دور ہدف رکھا ہے

 آنکھ سے دور بہت دور ہدف رکھا ہے

خوف پھر اپنے ہی پہلو کی طرف رکھا ہے

کیسے ڈر جائیں گے انجام کی خبریں سن کر

خود کو آغاز سے جب تیغ بکف رکھا ہے

مان لی جائے گی اب بات قبیلے میں مِری

میرے کُرتے میں ذرا تیز کلف رکھا ہے

میری خوش بختئ تقدیر کوئی دیکھے تو

پا بہ زنجیر، مگر ہاتھ میں دف رکھا ہے

شعر گوئی سے کبھی باز نہیں آ سکتا

میرے مالک نے طبیعت میں شغف رکھا ہے

میں یہ چاہوں تو مجھےساتھ میں رکھ لے ایسے

جیسے خوشبو نے کسی پھول کو لف رکھا ہے

کون سی بات نے ممتاز کیا ہے سب سے

"اشرف الخلق میں احساسِ شرف رکھا ہے"


فیضان فیضی

No comments:

Post a Comment