آنکھ سے دور بہت دور ہدف رکھا ہے
خوف پھر اپنے ہی پہلو کی طرف رکھا ہے
کیسے ڈر جائیں گے انجام کی خبریں سن کر
خود کو آغاز سے جب تیغ بکف رکھا ہے
مان لی جائے گی اب بات قبیلے میں مِری
میرے کُرتے میں ذرا تیز کلف رکھا ہے
میری خوش بختئ تقدیر کوئی دیکھے تو
پا بہ زنجیر، مگر ہاتھ میں دف رکھا ہے
شعر گوئی سے کبھی باز نہیں آ سکتا
میرے مالک نے طبیعت میں شغف رکھا ہے
میں یہ چاہوں تو مجھےساتھ میں رکھ لے ایسے
جیسے خوشبو نے کسی پھول کو لف رکھا ہے
کون سی بات نے ممتاز کیا ہے سب سے
"اشرف الخلق میں احساسِ شرف رکھا ہے"
فیضان فیضی
No comments:
Post a Comment