تعارفی نوٹ برائے بوٹ
آنکھیں صندوقوں کی طرح
بلوے کی تصویروں میں
ادھ کھلی پڑی ہیں
ٹوٹی پھوٹی کہانیاں
جلے کٹےخطوط
(جو کسی پتے پر نہیں پہنچے)
مکڑی کے جالوں میں بندھی
پھولدار قمیضیں
داغدار چادریں
لہو سے بھرے جوتے
اور وہ آوازیں
کیڑے مکوڑوں کی طرح رینگ رہی ہیں
جنہیں لاپتہ زنجیروں سے
باندھ کر
زندہ جلادیا جاتا تھا
بلوے کی تصویروں میں
مٹی سینہ پیٹ کےروتی ہے
“سپاہی کپڑے پھاڑ گئے”
سدرہ سحر عمران
No comments:
Post a Comment