Monday, 16 August 2021

سپاہی کپڑے پھاڑ گئے

 تعارفی نوٹ برائے بوٹ


آنکھیں صندوقوں کی طرح

بلوے کی تصویروں میں

ادھ کھلی پڑی ہیں

ٹوٹی پھوٹی کہانیاں

جلے کٹےخطوط

(جو کسی پتے پر نہیں پہنچے)

مکڑی کے جالوں میں بندھی

پھولدار قمیضیں

داغدار چادریں

لہو سے بھرے جوتے

اور وہ آوازیں  

کیڑے مکوڑوں کی طرح رینگ رہی ہیں

جنہیں لاپتہ زنجیروں سے

باندھ کر

زندہ جلادیا جاتا تھا

بلوے کی تصویروں میں

مٹی سینہ پیٹ کےروتی ہے

“سپاہی کپڑے پھاڑ گئے”


سدرہ سحر عمران

No comments:

Post a Comment