نظروں کو ملا کر تم نظروں کو چراتے ہو
تم اپنی محبت کو کیوں ہم سے چھپاتے ہو
نزدیک میرے آ کر تم دور ہو جاتے ہو
اک بار ہنس کر تم سو بار رلاتے ہو
کچھ صبر مجھے آئے کچھ دل کو تسلی ہو
تدبیر کرو ایسی کیوں مجھ کو ستاتے ہو
جب ہم سے بچھڑنے کا احساس نہیں تم کو
چھپ چھپ کے اکیلے میں کیوں اشک بہاتے ہو
ہر ایک جواں دل کا پھنس جانا ضروری ہے
اس طرح اداؤں کے تم جال بچھاتے ہو
راتوں کو اندھیرے میں جب نیند نہیں آتی
ہم دیپ جلاتے ہیں، تم دیپ بجھاتے ہو
سید عارف
No comments:
Post a Comment