Monday, 16 August 2021

نظروں کو ملا کر تم نظروں کو چراتے ہو

 نظروں کو ملا کر تم نظروں کو چراتے ہو

تم اپنی محبت کو کیوں ہم سے چھپاتے ہو

نزدیک میرے آ کر تم دور ہو جاتے ہو

اک بار ہنس کر تم سو بار رلاتے ہو

کچھ صبر مجھے آئے کچھ دل کو تسلی ہو

تدبیر کرو ایسی کیوں مجھ کو ستاتے ہو

جب ہم سے بچھڑنے کا احساس نہیں تم کو

چھپ چھپ کے اکیلے میں کیوں اشک بہاتے ہو

ہر ایک جواں دل کا پھنس جانا ضروری ہے

اس طرح اداؤں کے تم جال بچھاتے ہو

راتوں کو اندھیرے میں جب نیند نہیں آتی

ہم دیپ جلاتے ہیں، تم دیپ بجھاتے ہو


سید عارف

No comments:

Post a Comment